’فلسطینی صدر کا بیان یہودیوں کے خلاف ہے‘

سنہ 1945 میں سوویت افواج کی آمد پر دیتھ کیمپ میں موجود بچے
،تصویر کا کیپشنسنہ 1945 میں سوویت افواج کی آمد پر دیتھ کیمپ میں موجود بچے
وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 2 منٹ

اسرائیلی سیاستدانوں اور دائیں بازو کے حلقوں نے فلسطینی صدر محمود عباس کے ہولوکاسٹ کے بارے میں دیے گئے بیان کو یہودی مخالف قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔

محمود عباس نے غربِ اردن میں اجلاس کے دوران کہا تھا کہ یورپ میں ’یہودیوں کی اقتصادی سرگرمیوں کی وجہ سے نازیوں نے اُن کا قتلِ عام کیا اور یہ قتلِ عام یہودی مخالف نہیں تھا‘۔

انھوں نے یورپ کے یہودیوں کی 'سماجی سرگرمیوں' کو بیان کرتے ہوئے 'سود خوری اور بینکاری نظام' کا ذکر کیا۔

اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ترجمان نے اس بیان کو 'یہودی مخالف اور دل سوز' قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

نیویارک میں یہودیوں کی دائیں بازوں کی تنظیم انٹی ڈیفیمیشن لیگ نے بھی محمود عباس کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے اسے 'یہودیوں کے مخالف' قرار دیا ہے۔

یاد رہے کہ دوسری جنگِ عظیم کے دوران نازیوں نے یورپ میں یہودیوں کی نسل کشی کرنے کے لیے 60 لاکھ یہودیوں کو قتل کیا اور انھیں بڑی تعداد میں ہلاک کرنے کے لیے ’دیتھ کیمپ‘ بنائے گئے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

محمود عباس نے کیا کہا تھا؟

محمود عباس غربِ اردن کے علاقے رملہ میں فلسطین لیبریشن آرگنائیزیشن کی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔

فلسطینی ٹی وی پر براہ راست نشر ہونے والے ڈیڑھ گھنٹے کے خطاب میں یورپی یہودیوں کی تاریخ بھی شامل تھی، جو اُن کے مطابق 'یہودی زائنسٹ مورخین' کی کتابوں میں دی گئی معلومات پر مبنی تھی۔

انھوں نے کہا کہ’کئی دہائیوں سے مغربی اور مشرقی یورپ میں یہودیوں کے وقتا فوقتاً ہونے والے قتلِ عام کے بعد ہولوکاسٹ ہوا‘۔

محمود عباس نے کہا کہ 'لیکن ایسا کیوں ہوا؟ وہ کہتے ہیں کہ یہ اس لیے ہوا کہ وہ یہودی ہیں۔ میں یہاں تین یہودیوں کی تین کتابوں کا ذکر کروں گا جو کہتے ہیں کہ یہودیوں سے دشمنی کی وجہ اُن کی مذہبی شناخت نہیں تھی بلکہ اُن کی سماجی سرگرمیاں تھیں۔‘

انھوں نے کہا کہ 'یہ مختلف مسئلہ ہے۔ پس یورپ بھر میں لوگ اُن کے مذہب کی وجہ سے اُن کے مخالف نہیں تھے بلکہ اس کی وجہ اُن کی سماجی سرگرمیاں جو کہ سود، بے ایمانی پر مبنی ادھار دینا اور بینکاری نظام وغیرہ تھیں‘۔

Mahmoud Abbas (C) addresses The Palestinian National Council 23rd opening session in the West Bank town of Ramallah, 30 April
،تصویر کا کیپشنمحمود عباس نے یہودی مخالف بیان فلسطین لیبریشن آرگنائیزیشن کے اجلاس کے دوران دیا

محمود عباس نے کہا کہ جرمنی اور شمال مشرقی یورپ کے اشکنازی یہودی سامی نسل کے نہیں تھے اور ’ان کا شامی نسل کے لوگوں سے کوئی تعلق نہیں تھا‘۔

یاد رہے کہ اسرائیل کی سب سے بڑی کیمونٹی اشکنازی یہودیوں کی ہے اور اسرائیل کے وزیراعظم کا تعلق بھی اسی کیمونٹی سے ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے فلسطینی صدر کے بیان کی مذمت کی ہے۔

وزیراعظم کے ترجمان نے ٹویٹ کیا کہ ’ایک شخص جو یہودیوں کا اسرائیل کی زمین سے ہزاروں برس کے تعلق کو مسترد کرتا ہو، وہ ہولو کاسٹ کا الزام یہودیوں پر لگا رہا ہے اور یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ ہٹلر نے یہودیوں کی مدد کی، وہ حقیقت کو مسترد کر رہا ہے اور امن نہیں چاہتا۔‘