مین بُکر انٹرنیشنل ایوارڈ حاصل کرنے والی پہلی عرب مصنفہ جوخہ الحارثی

Arabic author Jokha Alharthi (L) and translator Marilyn Booth after winning the Man Booker International Prize for Celestial Bodies in London on May 21, 2019
،تصویر کا کیپشنجوخہ نے انعام کی رقم اپنی مترجم کے ساتھ بانٹی
وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 1 منٹ

عمان سے تعلق رکھنے والی جوخہ الحارثی مین بکر انٹرنیشنل ایوارڈ حاصل کرنے والی پہلی عرب مصنفہ بن گئی ہے۔

ان کا ناول ’سیلیسٹیل باڈیز‘ تین بہنوں اور ان کے خاندانوں کی زندگی کی کہانی ہے جو سماجی تبدیلیوں کا شکار ہوتے ہیں۔

مقابلے کے ججز کے مطابق اس میں کہانی بھرپور، مائل کرنے والی اور شاعرانہ انداز میں بیان کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

جوخہ الحارثی اپنے انعام کی رقم اپنے مترجم امریکی ماہر تعلیم مالین بوتھ کے ساتھ بانٹیں گی۔

جوخہ الحارثی نے لندن میں تقریب کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ’میں بہت پر جوش ہوں کہ ایک ذرخیر عرب تہذیب کے لیے ایک دریچہ کھل گیا ہے۔

’عمان نے مجھے متاثر کیا لیکن میرا خیال ہے کہ بین الاقوامی قارئین اس کتاب میں بیان کی جانے والی انسانی اقدار کے ساتھ تعلق محسوس کر سکیں گے، آزادی اور محبت‘۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

White space

سیلیسٹیل باڈیز العوافی نامی گاؤں میں رہنے والے تین بہنوں کی کہانی ہے جو عمان میں روایتی معاشرے سے آبادیاتی دور کے بعد کی تہذیبی ارتقا کی شاہد ہیں۔

الحارثی کا کہنا تھا ’اس میں غلامی کے موضوع کو بھی چھیڑا گیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس بحث کو چھیڑنے کے لیے ادب بہترین جگہ ہے۔‘

جوخہ الحارثی پہلی عمانی مصنفہ ہیں جن کی کتاب کا انگریزی میں ترجمہ ہوا ہے۔

ججز میں شامل تاریخ دان بیٹنی ہگیز کا کہنا تھا کہ اس ناول میں ’ہماری مشترکہ تاریخ کے پریشان کن پہلوؤں کو بیان کیا گیا ہے۔‘

اس سے پہلے جوخہ الحارثی دو افسانے، بچوں کے لیے ایک کتاب اور تین عربی ناول بھی لکھ چکی ہیں۔