امریکہ میں طیارہ حادثے سے قبل کاک پٹ سے آخری کال: ہلاک ہونے والے کون تھے؟

طیارہ حادثے کی ڈیش کیم فوٹیج
    • مصنف, کریگ ہوئل
    • مصنف, ناردین سعد
    • مصنف, کیتھرین آرمسٹرانگ
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

امریکی ریاست فلوریڈا میں اتوار کے روز ایک چھوٹا جیٹ طیارہ گر کر تباہ ہونے سے ہلاک ہونے والے نو افراد کی شناخت سامنے آ گئی ہے، جن میں میاں بیوی، ان کے دو کم سن بچے، طیارے کے پائلٹ اور 20 سالہ کو پائلٹ بھی شامل ہیں۔

حکام کے مطابق لیئرجیٹ 60 آسٹن سے بہاماس جا رہا تھا جب وہ اچانک، تقریباً عمودی زاویے سے، زمین کی طرف گرا اور دھماکے کے بعد آگ کے شعلوں میں تبدیل ہو گیا۔

امریکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس اور پرواز کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ حادثے سے قبل جیٹ طیارہ سینکڑوں فٹ فی سیکنڈ کی رفتار سے نیچے گر رہا تھا۔

ایئر ٹریفک کنٹرول کے پاس ریکارڈ کی گئی ایک آڈیو میں کسی شخص کو یہ اطلاع دیتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ وہ ’درمیانی شدت کے ہچکولے‘ محسوس کر رہے ہیں اور ان کا عملہ ’برفانی صورتحال‘ سے نمٹ رہا ہے۔

اس کے بعد اسی شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ طیارہ ’برف باری کی زد میں آ رہا ہے‘ اور ’ہمیں مزید بلندی پر جانے کی ضرورت ہے۔‘

چند لمحے بعد اسی آواز نے بتایا کہ طیارہ 10 ہزار فٹ فی منٹ کی رفتار سے نیچے جا رہا ہے۔

پھر، عملے کے ایک رکن نے ہنگامی صورتحال کا اعلان کرتے ہوئے چیخ کر کہا کہ ’ہم 20 ہزار فٹ فی منٹ کی رفتار سے نیچے جا رہے ہیں۔‘ پھر اسی آواز نے کہا ’ہم زمین سے جا ٹکرائیں گے۔‘

پہلی مے ڈے کال کے تقریباً 35 سیکنڈ بعد کاک پٹ سے آخری جملہ یہ سنائی دیا: ’ہمارا وقت ختم ہو گیا ہے۔‘

ایڈم رابنسن، ان کی اہلیہ اور دو کم سِن بچے
،تصویر کا کیپشنایڈم رابنسن، ان کی اہلیہ اور دو کم سِن بچے اس طیارے میں سوار تھے جو حادثے کا شکار ہوا

سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی غیر مصدقہ ویڈیو، جو بظاہر گاڑی کے ڈیش کیمرے سے ریکارڈ کی گئی تھی، وہ لمحہ دکھاتی ہے جب حادثہ ہوا۔

فلوریڈا کے گورنر رون ڈی سینٹس نے حادثے کے بعد ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’ویڈیو دیکھنا دہلا کر رکھ دیتا ہے۔‘

انھوں نے کہا: ’یہ بالکل ایسے لگتا ہے جیسے کوئی میزائل نیچے آ رہا ہو، پھر ایک زبردست دھماکہ ہوتا ہے اور ملبہ ہر طرف بکھر جاتا ہے۔‘

حادثے کے وقت علاقے میں گرج چمک کے ساتھ طوفانی بارش کی اطلاعات تھیں۔ نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ اس بات کی تحقیقات کر رہا ہے کہ آیا برف جمنے اور خراب موسم نے حادثے میں کردار ادا کیا، اور کیا انسانی غلطی بھی اس کی وجہ بنی۔

اس حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے بارے میں جو معلومات سامنے آئی ہیں، وہ یہ ہیں ۔

ایڈم رابنسن اور ہیلن شارپ

متاثرہ خاندانوں کے مشترکہ بیان کے مطابق، ٹیکساس میں ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ کاروباری شخصیت ایڈم رابنسن، ان کی اہلیہ ہیلن شارپ اور ان کے دو بچے، چار سالہ ایما اور دو سالہ چارلی، سب اس حادثے میں ہلاک ہو گئے۔

خاندان کے مطابق دونوں میاں بیوی اپنے بچوں سے بہت زیادہ پیار کرتے تھے اور انھیں ’اپنی زندگیوں کی روشنی‘ قرار دیتے تھے۔

بیان میں کہا گیا: ’ہیلن اور ایڈم کی محبت کی داستان ہمیشہ قائم رہے گی۔ ان کی گرمجوشی، سخاوت اور دوسروں کو اپنائیت کا احساس دلانے کی صلاحیت نے بے شمار زندگیوں کو متاثر کیا۔‘

پیشہ ورانہ روابط کے پلیٹ فارم لنکڈ اِن پر رابنسن نے خود کو آر بی ٹو بی اور ریٹینشن ڈاٹ کام کا بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او)، اور مولٹ سیٹس کا سی ای او قرار دیا تھا۔

وہ اس سے قبل عالمی مالیاتی خدمات فراہم کرنے والی کمپنی لیہمن برادرز اور بینکاری گروپ بارکلیز میں کام کر چکے تھے۔

بی بی سی نے ان کمپنیوں سے مؤقف لینے کے لیے رابطہ کیا ہے۔

ٹیکنالوجی کے کاروبار سے وابستہ ایک اور شخصیت جیسی اوئیلیٹ نے لنکڈ اِن پر رابنسن کی وفات کے بارے میں لکھتے ہوئے کہا کہ جب وہ اپنی کمپنی قائم کر رہے تھے تو رابنسن نے ان کی مدد کی تھی۔

اوئیلیٹ نے لکھا: ’وہ ایک دوست بن گئے۔ وہ تقریباً ہر موضوع پر آپ سے اختلاف کر سکتے تھے، لیکن کسی نہ کسی طرح آپ ان سے پہلے سے بھی زیادہ متاثر ہو کر واپس آتے تھے۔‘

اس نیٹ ورکنگ ویب سائٹ پر رابنسن نے آخری پوسٹ اتوار کو کی تھی، جس میں انھوں نے ایک مباحثے کا ذکر کیا تھا جو اگلے ہفتے اوئیلیٹ کے ساتھ طے تھا۔

جبکہ، میڈیا رپورٹس کے مطابق ایڈم رابنسن کی اہلیہ ہیلن شارپ ایک مصورہ تھیں۔

طیارہ حادثے پر فلوریڈا کی نیوز ویب سائٹ دی پام بیچ پوسٹ سے بات کرتے ہوئے ہیلن کے والد ڈڈلی شارپ نے بتایا کہ یہ خبر ’بہت بڑا صدمہ‘ تھی۔

انھوں نے کہا: ’ہماری ایک بیٹی، ان کے شوہر اور نواسہ، نواسی اس طیارے میں تھے۔‘

ریچل ریڈ، چارمی فیہر اور انیتا ماریا سیٹینا

ریڈ، فیہر اور سیٹینا

ریڈ، فیہر اور سیٹینا بھی رابنسن، شارپ اور ان کے بچوں کے ساتھ اسی جیٹ میں سفر کر رہے تھے۔

ان کے خاندانوں نے اپنے مشترکہ میں بتایا کہ ریڈ اور فیہر ’خوشی اور مہم جوئی سے بھرپور‘ تھے۔

بیان میں مزید کہا گیا: ’وہ اپنے پیاروں سے شدید محبت کرتے تھے۔ جس لمحے وہ ایک دوسرے سے ملے، اسی لمحے سے وہ ایک دوسرے کے لیے اور اس زندگی کے لیے پوری طرح پُر عزم تھے جو وہ تعمیر کر رہے تھے۔‘

فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ رابنسن اور شارپ کے ساتھ ان کا کیا تعلق تھا۔

بیان میں کہا گیا کہ سیٹینا ’ایما اور چارلی کی دیکھ بھال کرتی تھیں اور وہ واقعی خاندان کا حصہ تھیں۔‘

جیف گریگوری اور نتھالیا فلگیریاس

نتھالیا فلگیریاس
،تصویر کا کیپشننتھالیا فلگیریاس کو پائلٹ کا لائسنس اس وقت ملا جب وہ ہائی سکول میں تھیں
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

امریکی میڈیا نے 20 سالہ نتھالیا فلگیریاس کو طیارے کی شریک پائلٹ قرار (کو پائلٹ) دیا ہے۔ انھوں نے 17 برس کی عمر میں اپنا پائلٹ لائسنس حاصل کیا تھا۔

فلگیریاس کی والدہ، کامیلا کورٹیلیٹی نے امریکی میڈیا کو تصدیق کی کہ ان کی بیٹی اس حادثے میں ہلاک ہو گئی ہیں۔

کورٹیلیٹی نے نیو یارک ٹائمز کو بتایا: ’وہ آزادی سے محبت کرتی تھی۔ اوپر سے دنیا کو دیکھنا بالکل مختلف تجربہ تھا۔‘

2023 میں سی بی ایس نیوز سے وابستہ ایک مقامی نیوز ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں فلگیریاس نے فخر سے بتایا تھا کہ انھوں نے ہائی سکول کی سینیئر طالبہ ہونے کے دوران ہی پائلٹ لائسنس حاصل کر لیا تھا۔

انھوں نے کہا تھا: ’مجھے سب سے مختلف ہونا پسند ہے۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ عجیب بات ہے کہ میں طیارے اڑا سکتی ہوں لیکن گاڑی نہیں چلا سکتی۔ میرا مطلب ہے کہ میں چلا سکتی ہوں، لیکن بہت سے لوگوں کو یہ بات مزاحیہ لگتی ہے۔‘

'BBC News اردو' ایڈیشن کا انتخاب کریں اور نیوز الرٹس، تحقیقاتی اور تفصیلی رپورٹس، سب کچھ ایک ہی جگہ پر حاصل کریں۔

نوٹ: نئی ایپ برطانیہ اور امریکہ میں دستیاب نہیں ہے اور اس کا انگریزی زبان میں ایڈیشن موجود نہیں۔